Principles of dental care دانتوں کی حفاظت کے اصول


 برف کا زیادہ استعمال بلواسطہ یا بلاواسطہ دانتوں اور مسوڑوں کو ایک نہ ایک دن خراب کرکے رہتا ہے. گولوں پر رنگین شربت ڈال کر بچوں کو چوسنے دینا تو ان سے انتہائی دشمنی ہے۔ اس سے بچپن میں ہی ان کے دانت مسوڑھے اور معدہ و جگر خراب ہو جاتے ہیں۔
 دانتوں اور معدے کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دانت خراب ہوتے ہیں تو معدہ خراب ہوتا ہے اور معدے کی خرابی دانتوں کو خراب کر کے رہتی ہے۔ اس لیے ایک وقت میں زیادہ اقسام کھانے نہیں کھانے چاہیے۔ اس سے معدے کی قوت میں جس نے بیسیوں سال کام کرنا تھا وہ بہت قلیل مدت میں دیوالیہ ہو جاتی ہے۔
 چائے کا بہت زیادہ استعمال اور انتہائی گرم حالت میں پینا دانتوں اور معدہ دونوں کے لیے مضر ہے۔ اس سے بھی حتی الوسع بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
 

( A few simple and experienced dental recipes )دانتوں کے لئے چند سادہ اور مجرب نسخے


 مسواک سب سے آسان اور سب سے مؤثر تدبیر ہے۔ جیسے دانت اور مسوڑھے ہر قسم کے امراض سے بچ سکتے ہیں۔ مسواک کا التزام رہے۔ ہو سکے تو پانچوں نمازوں کے ساتھ مسواک کرتے رہیں ورنہ کم از کم ایک یا دو نمازوں پر ضرور مسواک کریں۔ مسواک نرم اور رشتے دار درخت کی ہونی چاہیے۔
نمک ایک حصہ اور ککر کے کوئلہ تین حصہ ملا لیں اور روزانہ دانتوں پر مل کر دس منٹ کے بعد کلی کرلیا کریں۔

 صبح اٹھتے ہی تھوک نگلنے سے پرہیز کریں۔ بلکہ پانی میں نمک حل کرکے دو ایک غرارہ اور کلیاں کرلیا کریں۔ تاکہ وہ گندگی جو رات بھر منہ اور مسوڑھوں میں جمع ہوتی رہی ہے دور ہوجائے۔ نمک کو آپ معمولی چیزنہ سمجھیں۔ یہ اللہ تعالی نے ان موتیوں کے خزانوں کی حفاظت کے لیے بطور محافظ اور چوکیدار کے دیا ہے۔ جو ہر غریب اور امیر کے گھر موجود ہے۔

سننے میں آیا ہے کہ ایک ایڈورڈ ہفتم شا برطانیہ ایک دفعہ دانتوں کی کسی بیماری
 میں مبتلا ہوگیا جس سے اس کے مسوڑھے خراب ہوگئے اس وقت انگلستان کے ڈاکٹروں کا ایک بورڈ تجویز کے لئے بٹھایا گیا آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ دنیا کے امیر ترین ملک کے اس بورڈ نے شاہ برطانیہ کے لیئے جو نسخہ تجویز کیا وہ یہ تھا کہ نمک پسا ہوا ہے لے کر دانتوں اور مسوڑھوں پر مل کر کچھ دیر کے بعد گرم پانی سے کلیاں کریں۔

A few simple and experienced dental recipes