ذیابیطس میں غذا کی احتیاط

A precautionary diet for diabetics.


 گہیوں کا آٹا بغیر چھلنی میں چھاننے کے پانی سے گوندھ لینا چاہیے۔ پھر بیس پچیس منٹ کے بعد گوندھے ہوئے آٹے کو پانی سے دھونا چاہیے ۔ سفید دودھ سا آٹے سے جدا ہوکر پانی میں گھل جائے گا۔ اور ربڑ کی طرح لچک دار مادہ باقی رہ جائے گا۔ آٹے کا لچکدار حصہ پانی سے علحیدہ کرکے اس میں چنوں کا آٹا ملا کر خوب گوندھ لیں۔ اور اس گندھے ہوئے آٹے کی روٹی پکا کر مریضوں کو دونوں وقت کھلائیں۔ اسی روٹی کے کھانے سے بہت جلد آرام ہوجاتا ہے۔ اگر چنے کا آٹا نہ ملے تب دھلے ہوئے لچکدار آٹے میں بیسن ملا کر روٹی تیار کرکے کھا سکتے ہیں۔ ان غذاؤں کے ساتھ دواؤں کا استعمال کرنے سے مریض بہت جلد تندرست ہوجاتا ہے۔

 ذیابیطس سیل اور تپ دق کے مریضوں کا بلڈ پریشر ہمیشہ کم ہوا کرتا ہے اور وزن دن بدن کم ہوتا رہتا ہے مرض کی ابتدا میں بھوک بہت بڑھ جاتی ہے اور جب مرض پرانا ہو جاتا ہے تب بھوک ختم ہوجاتی ہے اس لئے مندرجہ بالا علاج شروع کرنے سے پہلے مریض کے پیشاب کا امتحان کسی لائق ڈاکٹر سے کرا کر نوٹ کر لینا چاہیے کہ پیشاب میں کتنے فیصد شکر ہے ۔ مریض کا وزن بھی نوٹ کرلیں اور وہ تاریخ بھی نوٹ کر لینی چاہیے کہ جس تاریخ کو پیشاب کا امتحان اور وزن کیا تھا۔
 مریض کو چاہیئے کہ وہ خوش اور خرم رہے غم و فکر اور دماغی کام سے بچے رات کو پوری  نیند لے۔ ذیابیطس کا مرض عموما امیروں میں وبا کی طرح پھیل رہا ہے جو کہ کاروباری نتیجہ ہے اس لیے مریض کو چاہیے کہ وقت پر سیر کرے کھانا کھائے اور سویا کرے۔
 مریض لیموں، مالٹا ، سنگترہ استعمال کرسکتا ہے۔ آم ، خربوزہ، انگور اور دیگر میٹھے پھل نہیں استعمال کرنے چاہیے۔
A precautionary diet for diabetics.


 خشک میوہ جات اخروٹ بادام چلغوزہ مونگ پھلی کھانا مفید ہے۔ جامن کے موسم میں جامن بہت مفید ہے جامن کا عرق استعمال کرنا دوا اور غذا کا کام دیتا ہے۔ بیماری کے دوران مریض کو چاہیے کہ چکی کے موٹے اور بغیر چھنے آٹے کی روٹی کھایا کرے کبھی کبھی بیسن کا استعمال بھی کرے اور مکھن نکال کر دہی کی لسی پیا کرے۔ تیل، کھٹائی، لال مرچ، شراب سے پرہیز کریں۔ 
گوشت خور مریضوں کو بکرے، چوزے، تیتر،  بٹیر ، مرغابی اور پرندوں کا گوشت بہت مفید ہے۔ افیون کا استعمال کرنے والے مریضوں کو چاہیے کہ افیون کے ہمراہ ایک رتی سلاجیت کھالیا کریں۔