آزادی سے سزائے موت تک۔


سکینہ سندھ کے  ایک رئیس خاندان سے تعلق رکھتی تھی. وہ اور اس
کی بہنیں اور ماں اورباپ رہتے تھے. سکینہ کا باپ محمدعلی علاقے کا
وڈیرہ تھا. محمد علی اپنے علاقے  میں دہشت کا نمونہ تھا. علاقے کے
تمام تر فیصلے ا سی کے  ڈیرے پر ط ے کیے جاتے . محمد علی غیر ت کے نام پر آگ بگولا ہو جاتا اور ا سی بنا پر اپنی  بیٹیوں  پر اس لحاظ سے

سختی برتا تھا۔ سکینہ اور اس کی بہنیں اور ماں نے کبھی بھی گھر سے
باہر قدم نہ رکھا تھا۔  اور نہ ہی  ایسا کرنے کا سوچ سکتی تھیں۔ ان کی جو دنیا تھی وہ صرف اور صرف گھر ہی تھا۔ معمول کے مطابق محمد

علی گھر سے ڈیرے پر جاتا اور روزمرہ کے کام کرنے کے بعد واپس
آجاتا۔ مگر ا یک دن اسے ڈیرے پر شام ہوگئی اور وہ گھر نہ آسکا۔ سکینہ نے جب دیکھا کہ ابا حضور ابھی تک نہیں آئے  کیوں نہ ہو کہ آج گھر سے باہر کی ہوا سے لطف  اندوز ہوا جائے۔ بہنوں کے منع کرنے کے باوجود سکینہ گھر سے نکلی ڈھلتے سورج اور درختوں کے پتوں میں

چھپے پرندوں کی چہچہاہٹ نے سکینہ کی توجہ مرکوز کرلی۔ ٹھنڈی ہوا
میں گہرے سانس  لیتی ہوئی سکینہ گھر سے ذرا دور نکل آئی۔ اتنےمحمدعلی گھر آ جاتا ہے اور  بیوی سے کھانا لگانے کو کہتا ہے۔ سکینہ کی ماں اور بہنوں کی سانس جیسے رک گئی ہو اور ان کے چہروں کے
رنگ فق ہو کر رہ گئے وہ سوچ رہیں تھی کہ نہ جانے اب کیا ہونے والا ہے ابا حضور سکینہ کے ساتھ کیا کر یں گے محمدعلی تھوڑا پریشان ہو

 کر سکینہ کا پوچھتا ہے ۔  سکینہ کو بلاؤ وہ کدھر ہے ۔
 ادھر سکینہ گھر واپس پلٹ رہی ہوتی ہے فصلوں  میں چھپے گیدڑوں کی آوازوں اسے خوفزدہ کر رہی ہوتی ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ پریشانی کے

ابا حضور گھر آ چکے ہوں گے اور آج مجھے مرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ وہ اس آزادی کے لطف کو کوستی ہے اور کہتی ہے ہائے اللہ اب  میرا کیا بنے گا ۔ادھر ماں ہمت کرکے محمد علی کو بتاتی ہے کہ آپ کی بیٹی گھر سے باہر نکلی ہے۔ محمدعلی یہ سنتے ہی بھڑک اٹھتا ہے اور اپنے پاؤں کے
ساتھ کھانے کے برتنوں کو اچھال پھینکتا ہے۔ کہتا ہے اس کی ہمت کے
وہ گھر سے باہر قدم رکھے۔ سارا علاقہ میرے اوپر ہنسے گا کہ چوہدری محمد علی کی  بیٹی گھر سے باہر نکل

 آئی وہ بھاگتا ہوا  ڈیرے

پر پہنچتا ہے اور اپنے بندوں کو حکم  دیتا ہے کہ سکینہ کو ڈھونڈو اور مار ڈالو۔ وہ  میری بیٹی نہیں ہے۔ جیسے ہی سکینہ کی ماں اور بہنوں کو
پتہ چلتا ہے کہ ابا حضور اب سکینہ کو قتل کرنے کا حکم جاری کرچکے ہیں ان پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے سکینہ کی ماں محمد علی کے قدموں میں  بیٹھ کر بھیک مانگتی ہے  خدارا معاف کردو  آئندہ وہ نہیں جائے گی۔ اپنے اصولوں کے سامنے  بےرحم باپ  اب یہ فیصلہ کر چکا ہوتا ہے کہ سکینہ کو قتل ہی کیا جائے گا ۔
 سکینہ بوجھل قدموں سے سڑک کے کنارے پر چل رہی ہوتی ہے کہ ابا
حضور آج مجھے قتل کر  دیں گے کانپتے پیروں کے  ساتھ  پسینہ  میں
شرابور  اور سوچوں میں گم اور اند ھیرے کے خوف میں سکینہ کی نظر
ایک گاڑی پر پڑتی ہے جو اس کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے گاڑی اس
کے پاس آ جاتی ہے۔ پو لیس  وین  میں سے سپاہی اترتے ہیں اور کہتے
ہیں کہ بی بی کون ہو اور کہاں  ویرانے میں جا رہی ہو۔ سکینہ کی سانس
گلے  میں اٹکی ہونے کی وجہ سے وہ کچھ نہ بول سکی سکینہ کا دل خوف سے چور چور ہو چکا تھا کہ اچانک ان سپا ہیوں کی نظریں اسے کاٹنے کے دوڑ رہی تھی سپاہی سکینہ کو گاڑی  میں بٹھا کر تھانے لے  جاتے ہیں ۔
 ادھر محمد علی کے پاس اس کے بندے آتے  ہیں اور کہتے  ہیں سائیں
پورا علاقہ چھان مارا ہے وہ نہیں مل رہی۔ محمد علی غصے سے اٹھتا ہے اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل  گیا ڈھونڈو اور مارد و۔ اتنے میں  ایک بندہ بولتا ہے کہ سائیں ناراض نہ ہو تو ا یک مشورہ دو ں  محمد علی کہتا ہے بول و  وہ کہتا ہے سائیں  پولیس کو اطلاع دو شاید وہ ڈھونڈ لیں ۔
 ادھر سکینہ کو پولیس والے تھانے لے کر جاتے ہیں اور تھانے دار میز پر پاوں رکھ کر  پوچھتا ہے بی بی بتاؤ کون ہو اور کدھر جا رہی تھی۔
سکینہ ٹوٹتی ہوئی آواز میں بولتی ہے  میں چوہدری محمد علی کی بیٹی
ہوں یہ سنتے ہی تھا نیدار اور سپاہیوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے  ہیں تھانے دار سپاہیوں کو ڈانٹتا ہے یہ تم کس کو لے کر آ گئے ہو مجھے نوکری سے نکلوانا ہے  کیا وہ کہتا ہے ان کو عزت سے لے جاؤ اور گھر چھوڑ کر آؤ پولیس والے سکینہ کو لے کر گھر آ جاتے  ہیں سکینہ
جوں جوں گھر کے قریب ہوتی چلی جاتی ہے اس کی دھڑکن  تیز ہوتی
چلی جاتی ہے اور بار بار اپنے آپ کو کوس رہی ہوتی ہے کہ مجھ سےکیا ہو گیا  گاڑی محمد علی کے گھر کے باہر آ کے رکتی ہے جہاں پر
محمد علی اور اس کا بھائی یعنی سکینہ کا تایاابو اور کچھ ملازم کھڑے
ہوتے ہیں پولیس والے اترتے  ہیں محمد علی سے معافی مانگنے لگتے ہیں سائیں ہمیں معاف کر دو ہمیں پتا نہیں تھا یہ آپ کی  بیٹی ہے محمد
علی کہتا ہے یہ میری  بیٹی نہیں ہے ا س نے گھر سے باہر قدم رکھ کر
میرے اصولوں کو توڑا ہے اسے مار دو اور د ریائے نارہ میں پھینک
دو۔  محمد علی کے ساتھ کھڑاسکینہ کا تایاابو وہ آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے اسے مارنے کا اور پھینکنے کا کام مجھ پر چھوڑ د ے۔ اور پولیس  والوں کو جانے کا کہتا ہے
 سکینہ کا تایاابو سکینہ کو اپنے گھر لے کے آتا ہے۔ سکینہ کی ماں اور بہنیں محمد علی کے گھرآنے پر منتیں کرتی  ہیں مگر محمدعلی  بے  رحمانہ انداز میں ٹال د یتا ہے
 سکینہ تایاابو کے گھر ہوتی ہے اور سوچتی ہے کہ نہ جانے تایاابو مجھے کس انداز سے موت کے گھاٹ اتار ئیں گے۔ سکینہ کا تایاا بو اپنی
بیوی سے کہتا ہے کہ  میرے کپڑے  تیار کر دو  میں اور سکینہ پنجاب جا رہے ہیں بیوی کہتی ہے چودھری صاحب دن چڑھنے کو ہے ک ہیں محمد
علی کو پتہ نہ چل جائے آپ جلدی جائیں جیسے تیسے کرکے سکینہ اور اس کاتایاابو   ریلوے اس ٹیشن پر پہنچ جاتے ہیں دن چڑھنے سے پہلے  ریل گاڑی  میں سوار ہو جاتے  ہیں ۔
 وہ دونوں اپنے رشتہ داروں کے ہاں منڈی بہاؤالدین میں آجاتے ہیں۔ سکینہ کا تایاابو چوہدری اشرف جوکہ انکا رشتہ ددار ہوتا ہے اس کی بہن کے بیٹے جو کہ دماغی طور پر کمزورہوتا   ہے کہ ساتھ نکاح کر دیتا ہے اور خود واپس چلا جاتا ہے ۔

 سکینہ ستم ظریفی کو قبول کرتے ہوئے اپنے شوہر واجد کے ساتھ رہتی

ہے۔ واجد سکینہ پر ظلم کرتا ہے اور اسے مارنا پیٹنا شروع کر د یتا ہے واجد کی ماں بات بات پر سکینہ کو طعنے دیتی ہے کہ گھر سے نکلی  ہوئی ہے و غیرہ و غیر ہ ۔
 سکینہ جو ناز نخروں سے پلی تھی اور رانیوں کی طرح گھر میں رہتی
تھی اب گھر کے سارے کام کرنے پڑتے اور ساس کا ظلم کا شکار ہوتی
رہی ۔ سکینہ برتن دھوتی کھانا پکاتی صفایاں کرتی اور باوجود اس کے
اس کا شوہر اس پر جب گھر آتا تشدد کا نشانہ بناتا اور مارتا  پیٹتا رہتا اک فقیر جو روز ان کے دروازے پر مانگنے کے لئے آتا سکینہ کے حالات  دیکھتا اور دعا دے کر چلا جاتا۔
 اتنے میں ساری کہانی چودھری اشرف کو پتہ چلتی ہے اور وہ اپنی بہن
کے گھر روانہ ہو جاتا ہے وہاں جاکر اپنی بہن سے تفصیل طلب کرتا
ہے اور بہن کہتی ہے آپ کو پتہ تو ہے واجد پورے سے دماغ کا ہے اسکو کس نے
بیٹی دینی تھی گھر بیٹھے مفت میں مل گئی ہے چوہدری اشرف سکینہ کے کمرے میں جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ ب یٹا تم  یہاں  خوش ہ
 سکینہ دکھوں اور تک لیفوں سے ماری ہوئی ان کے  پیار بھرے لفظوں
سے متاثر ہوتی ہے اور ان سے کہتی ہے کہ خدا کے لئے مجھے یہاں
سے لے جائیں یہ مجھے بہت مارتے ہ یں واجد مجھے لوہے کی سلاخوں
سے مارتا ہے مجھے بچا ل و۔ چوہدری اشرف اپنی بہن سے کہتا ہے
سکینہ میری بیٹی ہے اور  میں اسے اپنے گھر لے جارہا ہوں تم لوگ جب تک اس سے معافی نہ مانگو گے  یہ واپس نہ آئے گ ی۔ سکینہ ان کے ساتھ ان کے گھر آ جاتی ہے اور ان ک ے پانچ بچے ہوتے ہیں اور یہ ان

کی چھٹی بہن بن جاتی ہ ے۔ دھیرے دھیرےوہ سارے دکھ بھول جاتی ہے
اور اس گھر کے فرد بن جاتی ہے سک ھ کا سانس لیتی ہے اور اپنے بہنبھا ئیوں کے ساتھ گھل مل جاتی ہے مگر اک دن سکینہ کی ساس اور
شوہر آجاتے ہیں  اور واجد معافی مانگتا ہے چودھری اشرف سکینہ سے
پوچھتا ہے  بیٹا تمہاری مرضی ہے کہ تم جانا چاہتی ہوں یا ن ہیں وہ سوچتی ہے کہ آخر یہ میرا شوہر ہے اور شاید ٹھیک ہوگیا ہو اور معاف
 کر دیتی ہے اور اس کے ساتھ چلی جا تی ہے ۔

 مگر دکھ  ایک دفعہ پھر سک ینہ کے نصیب  میں ہوتے  ہیں اور واجد
سکینہ پر ظلم کے پہاڑ توڑ  دیتا ہے او ر اسے مارتا ہے اور ساس کا رویہ بھی تلخ ہوتا ہے۔ سک ینہ حاملہ ہو جاتی ہے مگر سارا دن گھر کے
کام اور ساس اور شوہر کا ظلم برداشت کرتی رہتی ہے اک ب یٹا  پیدا ہوتا
ہے جس کا نام مز مل رکھا جاتا ہے ۔ا س سوچ میں ظلم برداشت کرتی
رہتی ہے اک دن اس کا ب یٹا بڑا ہو گا اور اسے آرام دکھائے گا مگر تقدیر
کچھ اور ہی تھی واجد گھر  میں داخل ہوتا ہے اور کہتا ہے مجھے چائے
دو سکینہ کام چھوڑ کر اٹھتی ہے مگر واجد کو غصہ آتا ہے کہ سستی
کیوں دکھا رہی ہو اور کلہاڑی اٹھاتا ہ ے اور سکینھ کا قتل کرڈالتا ہے
بچاری سکینہ گھر سے آزادی کے لیے نکلی اور باپ کی سزائے موت
سے بچتی  شوہر کے ہاتھوں سے سزائے موت تک پہنچ جاتی ہ ے۔ چوہدری اشرف کو خبر ملتی ہے وہ بہن کے گھر جاتا ہے اس کی بہن
سکینہ کی طبعی موت کا بہانہ کرتی ہے چودھری اشرف قبرستان میں
پہنچتا ہے اور سک ینہ کی قبر کے ساتھ  بیٹھ کر سکینہ سے معافی مانگتا
ہے اتنے  میں وہ فقیر آتا ہے اور اس کو سکینہ کا باپ سمجھتا ہے اور کہتا ہے بہت  دیر کردی یہ لوگ بہت ظلم کرتے تھے بچاری ظلم برداشت کرتے کرتے مر گئی۔ گھر کے باہر ک ی ہوا سے لطف اندوز ہونے کے
لیے نکلی سکینہ آزادی کے گناہ میں مار دی جاتی ہے اور یہ سوال
 چھوڑ کے چلی جاتی ہے کہ اسے کس جرم کی سزا دی گئی ۔

آزادی سے سزائے موت تک (2020)Pakistan story