ہاتھی نے سائیکل والے پر حملہ کر دیا مگر جب وجہ معلوم ہوئی تو سب ہاتھی کی ذہانت پہ خوش ہو گئے۔

 ہاتھیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دوسرے جانوروں کے برعکس انسانوں کی طرح ذہین ہوتے ہیں۔ ہاتھیوں کی ذہانت کی وجہ ان کے دماغ میں ایکسٹرا پارٹ جسے نیرو کا ٹیکس کہتے ہیں کا موجود ہونا ہے۔

 ہاتھی ذہین تو ہوتے ہیں ہی لیکن بہت طاقتور بھی جنگل کا بادشاہ اگر شیر ہے تو ہاتھی بھی کسی سے کم نہیں کیونکہ ہاتھی ان چند جانوروں میں سے ہے جس سے جنگل کا بادشاہ شیر بھی ڈرتا ہے۔ ہاتھی کو اسکا جھنڈ خطرے میں محسوس ہو  تو وہ کسی بھی جاندار پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کرتا۔

  ایسا ہی واقعہ انڈیا میں ہوا۔ ایک سائیکل والے کو مارنے کے لئے ایک ہاتھی اس
 کے پیچھے بھاگا لیکن اصل میں ہاتھی اس سائیکل والے کو مارنا نہیں چاہتا تھا۔ جب سائیکل والے کو اور دوسروں لوگوں کو پتہ چلا تو وہ حیران رہ گئے ۔ انسانوں اور ہاتھیوں کا رشتہ ایک عرصے سے قائم ہے انسانوں نے ہر کام کے لیے ہاتھیوں کو استعمال کیا ہے۔ پھر وہ چاہے لڑائی ہو یا پھر وزن اٹھانا ہو یا پھر سرکس میں کام کرنا ہو ہاتھی انسان کا وفادار ہے۔
ہاتھی نے سائیکل والے پر حملہ کر دیا مگر جب وجہ معلوم ہوئی تو سب ہاتھی کی ذہانت پہ خوش ہو گئے۔

ہاتھی نے سائیکل والے پر حملہ کر دیا مگر جب وجہ معلوم ہوئی تو سب ہاتھی کی ذہانت پہ خوش ہو گئے۔


 انڈیا کا شخص جو ہاتھیوں کی نسل بچانے کے لیے کاوش میں ہے اور اکثر جنگل میں جاتا ہے۔ مگر کیا خبر تھی کہ یہ ہاتھی ہی اس پر حملہ آور ہو جائیں گے۔
 ایک دن یہ شخص عام دن  کی طرح اپنی سائیکل پر جا رہا تھا اس وقت وہ جنگل سے گزرتی ہوئی سڑک سے گزر رہا تھا کہ اچانک آس پاس میں موجود جھاڑیوں میں غیر معمولی حرکت محسوس کرتا ہے۔ تھوڑی دیر میں وہ حیران رہ جاتا ہے ایک بڑا ہاتھی نکل آتا ہے اور اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ وہ بہت زیادہ ڈر جاتا ہے کہ اب اس ہاتھی کے بھاری بھرکم پیر سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ہاتھی کی سپیڈ سے  بچ سکتا تھا تو ایسا نہیں ہے کیونکہ ایک عام بائی سائیکلسٹ کی سپیڈ بیس کلومیٹر  فی گھنٹہ ہوتی ہے عام ہاتھی کی سپیڈ 40 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اس حساب سے اس ساتھی سے اس کو کوئی بچا نہیں سکتا تھا۔
ہاتھی نے سائیکل والے پر حملہ کر دیا مگر جب وجہ معلوم ہوئی تو سب ہاتھی کی ذہانت پہ خوش ہو گئے۔

 ہاتھی پوری طاقت کے ساتھ دوڑب رہا تھا۔ اچانک اس نے کوئی بات سوچی اور اس کا تعاقب کرنا چھوڑ دیا۔ اور دوسری طرف موجود کاروں کی طرف توجہ کر لی۔ کاروں میں موجود لوگ محفوظ تھے مگر خطرہ ان کے سر سے ابھی ڈالا نہیں تھا۔ کہ  کاروں والے روک گئے  تو ہاتھی بھی رک گیا۔ سب لوگ حیران تھے کہ ہاتھی آخر کیا کرنا چاہتا ہے  مگر اچانک جھاڑیوں میں سے ہاتھیوں کا جھنڈ نکلتا ہے اور سڑک کراس کرتا ہے ۔ وہ ہاتھی کھڑا ہوکر ان ہاتھیوں کو گزرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ تو سب لوگ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ ہاتھی ان پر حملہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بلکہ وہ اپنی فیملی کو سڑک کراس کروانا چاہتا تھا۔ سب لوگ حیران رہ گئے کہ ہاتھی نے ٹریفک روکی اور اپنی فیملی کو سڑک پار کروائی۔ اسی طرح وہ سائیکل والے پر حملہ نہیں کر رہا تھا بلکہ صرف اور صرف ٹریفک کو روک رہا تھا۔ تاکہ اس کی فیملی سڑک پار کر سکے پھر جب اس کی فیملی سڑک پار کر گئی تو  وہ بھی ان کے پیچھے چلا گیا۔ آپ اس سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہاتھی کتنے ذہین ہوتے ہیں۔
ہاتھی نے سائیکل والے پر حملہ کر دیا مگر جب وجہ معلوم ہوئی تو سب ہاتھی کی ذہانت پہ خوش ہو گئے۔