رحم دل بیھڑیا۔

جس طرح بھیڑیوں کو  افسانوں اور ڈراموں
 میں خوفناک بنا کر پیش کیا جاتا ہے حقیقت میں یہ اتنے خوفناک نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس انسانوں کی مدد کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے اور انسانوں سے مد لیتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔
بھیڑیے اور انسان کی ایسی کہانی جو آپ کو آب دیدہ کر دے گی۔۔۔مزید پڑھیں


 ایسی ہی کہانی ایک جنگل کے رکھوالے کی بھی ہے۔ 

جس نے ایک بار ایک بوڑھے بھیڑیے کی جان بچائی مگر کچھ عرصے بعد اس بھیڑیے نے اس محافظ کی زندگی بدل ڈالی۔ وہ بتاتا ہے کہ جب اسے جنگل کے رکھوالے کے طور پر ڈیوٹی کرنا پڑی تھی میرے لیے یہ سب سے اچھا وقت تھا۔میں یہ کام کرنے میں بے حد خوشی محسوس کرتا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس جنگل کے پاس اسے ایک چھوٹا سا گھر بھی دیا گیا تھا جس میں وہ اور اس کے تین کتے رہتے تھے۔ میں ایک دن جنگل کے گشت پر تھا تو میں نے ایک بھیڑیے کو دیکھا جو کافی عمر کا لگ رہا تھا۔ میں نے کافی شور کیا کہ وہ شاید چلا جائے گا مگر بیھڑیابمشکل اٹھا اور لڑکھڑاتے ہوئے چند قدم چل کر گیا۔ مجھے یہ بات سمجھنے میں کافی دیر نہ لگی کہ بھیڑیا بڑھاپے کی وجہ سے بہت کمزور ہوچکا ہے اور یہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکے گا۔ کیونکہ وہ شکار نہ کرنے کے قابل رہا تھا میں نے اس کو اس کے حال پر چھوڑا اور چل دیا۔

 کچھ دنوں کے بعد قسمت نے ہمیں ایک دوسرے کے سامنے پھر لاکھڑا کیا میں اس دن بھی اپنے کتوں کے ساتھ گشت پر تھا۔ وہ بھیڑیا بہت ہی کمزور ہوچکا تھا اب میں اس بوڑھے بھیڑیے کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا۔ میں ڈرتے ڈرتے اس کے پاس چلا گیا مگر بھیڑیا کمزوری کے باعث بیٹھا رہا اور میں نے اسے رسی ڈالی اور گھر لے آیا۔ میں اس خون خوار جانور کو اپنے گھر لے آیا۔ اور چند ہفتوں تک اس کو اچھی خوراک دی تو وہ تندرست ہونا شروع ہوگیا۔

 میں نے اس کی خدمت جاری رکھی اور میں نے کچھ دن کے بعد اس سے اپنے کتوں کے ساتھ غراتے ہوئے دیکھا تو میں سمجھ گیا تھی اب بالکل ٹھیک ہوگیا ہے۔  تندرست ہوگیا ہے۔ اب وہ بھی میرے ساتھ جنگل میں جاتا تھا۔ ایک دن میں اس کے ساتھ جنگل میں جا رہا تھا کہ بھیڑیا اچانک فرار ہوگیا اور میں نے اسے کافی آوازیں دیں مگر وہ واپس نہ آیا۔ میں نے اپنے آپ کو کافی برا بھلا کہا اس جانور نے تجھے یہ خدمت کا صلہ دیا ہے۔ کہ میں نے خون خوار جانور کی اتنی زیادہ خدمت کی مگر وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔  مجھے اپنی خدمت کا جو صلہ ملا میں اس پر بے حد دکھی تھا۔

 سردیوں کی اس رات میں؛ میں آگ کے پاس بیٹھا تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہونے لگی میں نے سوچا کہ شاید ساتھ والے جنگل کا دوست آیا ہے۔ جب میں نے دروازہ کھولا تو میں حیران رہ گیا کہ ایک لڑکی کھڑی ہے اور بہت سی پریشان ہے اور اس کے ساتھ وہی بیھڑیا کھڑا ہے

بھیڑیے اور انسان کی ایسی کہانی جو آپ کو آب دیدہ کر دے گی۔۔۔مزید پڑھیں

میں نے ان دونوں کو گھر کے اندر لےآیا اور لڑکی سے اس کی کہانی کے بارے میں پوچھا۔ 

تو اس نے بتایا کہ وہ کچھ دن پہلے یہاں سے گزر رہی تھی تو رستہ بھٹک گئی تھی۔ کافی دیر راستہ تلاش کرنے کے بعد اب وہ بے بس ہوگئی تھی۔ اور پھر اچانک اس کے سامنے یہ بیھڑیا آ کر کھڑا ہو گیا اور وہ خوف کی وجہ سے ڈر گئی اور بیہوش ہو کر گر گئی۔ اور اسے معلوم ہوگیا تھا کہ اس کی موت آ گئی ہے۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں حیران رہ گئی کہ وہ بھیڑیا میرے پاس بیٹھا ہے اور کوشش کر رہا ہے کہ مجھے جوتوں سے گھسیٹنا چاہتا ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ بیھڑیا مجھے کھانا چاہتا تو اب تک کھا چکا ہوتا۔ اس کا مجھے نہ کھانا اس میں کوئی مصلحت ہے۔
 میں ڈرتے ڈرتے اٹھ کھڑی ہوئی اور پھر یہ بیھڑیا چل پڑا میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی تو یہ مجھے اس دروازے تک لے آیا۔ اس شخص نے یہ بھی بتایا کہ نہ جانے انجانے میں اسے  اس لڑکی سے محبت ہوگئی اور اس ان دونوں نے شادی کرلی۔ اور کیونکہ بھیڑیا کافی بوڑھا ہو چکا تھا کچھ دنوں بعد مرگیا۔
بھیڑیے اور انسان کی ایسی کہانی جو آپ کو آب دیدہ کر دے گی۔۔۔مزید پڑھیں