لمحہ فکریہ

میرے گاوں  میں صرف ایک پرائیوٹ سکول ہے اور دو سرکاری سکول ہیں۔المیہ یہ 
ہے کہ بھولے بھالے والدین اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلوانے کےلئے تعلیم کو پرائیوٹ سکولز سے خریدتے ہیں۔کچھ دن پہلے میں اپنے تایا زاد بھائی کی بیٹی کی کاپی دیکھ رہا تھا جس پہ اس پرائیوٹ سکول کی ٹیچر نے انگلش کے ٹینس کرواے ہوئے تھے ۔با خدا ایک جملہ بھی ٹھیک نہ تھا حتی کہ I کے بعد do آتا ہے یا does اس ٹیچر کو یہ بھی پتہ نہ تھا۔المختصر اس بچی کو دی جانے والی تعلیم سرا سر بے بنیاد محسوس ہو رہی تھی۔مگر وہ بھولے بھالے والدین مطمعن ہیں کہ ان کے بچے اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔دوسری طرف سرکاری سکول دیکھیں جس میں بلاشبہ پرانے ٹیچر بھی موجود ہیں مگر نئے آنے والے اساتذہ اعلی تعلیم یافتہ ہو نے کے ساتھ ساتھ مقابلہ کا امتحان پاس کر کے سلیکٹ ہوئے ہیں۔میٹرک کا رزلٹ سرکاری سکولز کا بھی دیکھیں اور پرائیوٹ کا بھی۔اب آتے ہیں اس کے حل کی جانب کہ آخر بھولے بھالے والدینوں کو کسے پتہ چلے

 کہ ان کے بچے کو پرائیوٹ سکول میں جو تعلیم دی جا رہی ہے وہ معیار کے اوپر پورا اترتی ہے کہ نہیں۔اس کےلئے ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ گاوں کے قابل اور ایمان دار لوگوں کی ایک کمیٹی بنانا ہوگی جو اس سکول میں موجود سٹاف کی تعلیمی قابلیت چیک کرے اس لیے کہ آخر ہم اس سکول کو پیسے دیتے ہیں جو کہ غریب والدین خون پسینہ کی کمائی کما کر ان پرائیوٹ سکول کو تھما دیتے ہیں اسطرح بھی کیا جا سکتا ہے کہ پرائیوٹ سکول مالکان کو کہا جائے کہ وہ معیار کے اوپر پورا اترنے والے اساتذہ کو رکھیں جو کہ ٹیسٹ اور انٹرویو کے مراحل سے گزر کے آئیں۔خدا را اپنے بچوں پر رحم کریں ان کو نمبروں کی دوڑ سے آزاد کریں۔کسی جیل خانے کی بجائے کھلے کشادہ اور قابل ٹیچرز والی جگہ بھجیں۔شکریہ