میرا بیٹا میرا دست بازو

ہر باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ میرا بیٹا میرا دست بازو بنے۔کچھ اسی طرح ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے۔باپ اپنی جوانی اسی بنا پہ صرف کر دیتا ہے کہ بڑا بیٹا اب جاب والا ہو جائے گا پھر میں نے ساری عمر آرام ہی تو کرنا ہے۔سارے لاڈ پیار اور آسائیشیں با خوشی پوری کرتا ہے کہ کل کو میرا بیٹا میرا دست بازو بنے گا۔کل کو میری مشکلات کم ہوجائیں گی ۔ کالج کی فیس ،ہاسٹل کے اخراجات اور پردیس میں کھانے پینے کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے کپڑے اچھی جوتی اچھا فیس واش اچھا شمپو اور بہت ہی ضروری چیز موبائل 

خوشی خوشی لے کہ دیتا ہے۔

باپ کی یہ ساری نظر آنے والی محنت کے باوجود بیٹا ساتھ ہی ایک اور رشتہ بھی استوار کر رہا ہوتاہے۔اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اپنے پیارے اور مخلص باپ کی آنکھوں میں دوھول جھونکنے کے ساتھ ساتھ اپنے غریب باپ کو بےوقوف بھی بنا رہا ہوتا۔باپ اس سکون میں خوشی محسوس کرتا ہے کہ میرا بیٹا اعلی تعلیم حاصل کررہا ہے اور کل کو اس گھر کے اخراجات برداشت کرنے میں میری مدد کرےگا مگر بیٹا یہ کہہ کہ ماں کو ٹال دیتا ہے کہ اس ہفتے امتحانات کی وجہ سے آنا مشکل ہے اور ساتھ ہی اس رشتے کو جو اسنے اپنے والدین سے چوری بنایا ہے کے ساتھ شہر کے کسی ہوٹل میں مہنگا ترین کھانا جو کہ شاید ان والدین نے کبھی دیکھا بھی نہیں ہوگا اس کھانے کو نئے رشتے کے ساتھ انجوائے کرنے کے چکر میں ہوتا ہے۔ بر حال وقت کی سوئی چلتی چلتی ان لمحوں تک آ پہنچتی ہے کہ  بیٹا کی نوکری کا کال لیٹر گھر آ پہنچتا ہے ۔باپ سارے محلے میں اپنے کندھوں کو چوڑا کر کے خوشی خوشی سب کو بتاتا پھرتا ہے کہ اسکا بیٹا اب نوکری والا ہو گیا ہے۔رات سونے سے پہلے اپنے خیالات کی دنیا میں گم ہوتا ہے کہ اب میرے گھر کے حالات بہتر ہو جائیں گے ۔ماں کے وہ خواب دوبارہ آنکھوں کی زینت بننے لگتے ہیں کہ اب وہ بھی اچھے کپڑے پہنے گی اب اسکا گھر بھی پکا ہوگا اور جب وہ اپنی رشتہ دار عورتوں میں بیٹھے گی تو اسے اب شرم نہیں آئے گی۔الغرض دونوں یعنی ماں اور باپ بہت اطمینان محسوس کرتے ہیں جسے لفظوں کی بیڑیوں میں قید یعنی بیان نہیں کیا جاسکتا۔ بیٹا اب نوکری پر جانے والا ہے باپ بازار سے نئے کپڑے اور نئے جوتے لانے کےلیے بیٹے کی ماں کو پیسے دیتا ہے ماں نئے کپڑے تیار کرتی ہے اور بالآخر باپ اپنی جیب سے پیسے نکال کر بیٹے کو نوکری پر بھیج دیتا ہے مگر ساتھ ہی دوسری کہانی پروان چڑھتے چڑھتے اب اور مظبوط ہو چکی ہوتی جسکی والدین کو خبر تک نہیں ہوتی۔وہ لڑکی اس خوشی میں ہوتی ہے کہ اسکا چاہنے والا اب نوکری والا ہو گیا ہے اور اب نہ جانے کیا سے کیا خریدا کرے گی ۔
المختصر دو سے تین ماہ بیٹا باپ کو یہ کہانی سنا تا رہتا ہے کہ تنخواہ کم مل رہی ہے چند ہزار روپے بھیجتا ہوں۔اتنے میں ماں اپنے جوان بیٹے کے سر سہرا باندھنے کے خواب دیکھتی ہے ۔وہ باپ جو بیٹے کی نوکری کے باوجود گھر کے اخراجات با مشکل پورے کر رہا ہوتا ہے ساتھ ہی بیٹے کی شادی کے اخراجات کا انتظام اس کے ذہن میں گھومنے لگتے ہیں۔

دوبارہ چکنا چور ہوچکے ہیں۔

مگر بیٹا جسے دست بازو بننا تھا ان تمام حالات سے بے خبر اپنی تمام عنایات اس لڑکی پر قربان کرتا چلا جاتا ہے ۔ساتھ ہی وہ لڑکی اسکے ذہن میں اک اور فتور ڈال دیتی ہے کہ تیری ماں تیری شادی کہئں اور کر دے گی وغیرہ وغیرہ۔الغرض اسکی تمام ڈوریں اس لڑکی کی مرضی پہ ہلتی ہیں۔بیٹا والدین کو اپنی مرضی کے مطابق شادی کرنے پہ مجبور کرلیتا ہے۔باپ بیٹے کی خوشی میں خوش ہو کر شادی بیٹے کی مرضی کے مطابق کرنے میں رضامند ہو گیا اور نہ جانے کن کن سے قرضہ لے کہ بیٹے کی شادی کے اخراجات کا انتظام کرتا ہے اور بالآخر شادی کر دی جاتی ہے اور نئی نویلی دلہن چند دنوں کےلیے ہنسی خوشی ساس سسر کی خدمت کرتی ہے اور شوہر کو طرح طرح کے بہانے  سناتی اور اپنے ساتھ لے جانے پہ مجبور کرنے لگی بلاشبہ اس دفعہ بھی ہار مجبور والدین کے نصیب میں لکھی ہوئی ہوتی ہے اور والدین بیٹے اور بہو کو خوشی خوشی روانہ کر دیتے ہیں بعد میں سوائے چند دنوں بعد فون کر کے والدین کا حال احوال پوچھنے کے علاوہ کسی قسم کی دل جوئی نہ کی۔باپ اسی جذبہ کے ساتھ باقی اولاد کی تعلیم وتربیت کے اخراجات اٹھا رہا ہے اور ماں کے خوشحالی کے خواب 
اے میرے عزیزو ! خدا کے لیے ان والدین کو تنہا نہ چھوڑو ۔ورنہ پشتاوے کے علاوہ ہاتھ کچھ نہ رہے گا اور یاد رکھیے دنیا مقافات عمل ہے ۔قدر کیجیے ۔۔دنیا و آخرت کی کامیابی بیوی بچوں کے ساتھ ساتھ والدین جیسے انمول رشتے کی خدمت کے بغیر نہ ممکن ہے۔شکریہ۔
دعا گو سی ایچ اکمل راجپوت۔
دوبارہ چکنا چور ہوچکے ہیں۔