میں غلیظ اور وہ پاک ذات۔

عجب لمحہ فکریہ ہے کہ نہ آج کے امتی کے پاس عبادت نہ ریاضت ہے نہ ہی راتوں کا قیام ہے مگر دعوے ایسے کہ جنہیں گستاخی کی فکر کے بغیر شائع کردیاجاتا ہے۔ ہم اس دنیا میں رہتے ہوئے سب دنیاوی کام کرتے ہیں لین دین خرید وفروخت سب اپنے طور طریقوں سے کرتے ہیں مگر جب ہمارے طور طریقے ہی ہمارے لیے نقصان کا سبب بنتے ہیں  تو دین اسلام کے اور سنت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیروی کی بجائے ہم آسان اور نامناسب ٹوٹکے کو اپنا لیتے ہیں۔ اب معشیت کو ہی دیکھ لیں ہم نے انٹرست کے نام پر کاروبار شروع کردیے اس میں لفظ انٹرسٹ کی تعریف اپنے مطابق کرلی مگرنہ ہی دیکھا کہ ہم سود کھا رہے ہیں جیسے اللّٰہ نے ہم پر حرام قرار دیا ہے۔ بلآخر حالات یہاں تک آپنہچے

 کہ ہمیں انٹرنیشنل بینکوں سے قرض لینے پڑے جو سرعام سود کا کام کرتے ہیں۔ قرض لینے کے بعد ان کی پہلی شرط ہی یہی تھی کہ اپنے ملک میں سود کو شروع کرو ہم بجائے اسلام سے تعلیم لینے کہ اور سود جیسے ناسور سے بچنے کہ ہم نے انٹرنیشنل سود خور بنکوں کے کہنے پر اپنے ملک میں شرح سود مقرر کر دی اور ہر روز ٹی وی چینل اس لفظ کو درجنوں دفعہ بولتے۔ مگر صد افسوس کہ ہم پھر بھی مسلمان ہیں ۔ اسی طرح سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق صحت کو کبھی چلانے کا سوچا بھی نہیں۔ اور جب بیمار پڑجاتے ہیں تو ہمیں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنا تو مشکل لگتا ہے اس لیے ہم ایسی طرقیبوں طرف نکل جاتے ہیں کہ ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ہماری ان غلیظ آنکھوں کو موئے مبارک کا دیدار کروانا کوئی معمولی نہیں ہے۔ ہم یہ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ بغیر تقوی کے بغیر نماز کے اور اٹھتے بیٹھتے گناہوں کی لاین لگاتے ہوئے اچانک الہام ہوجاتا ہے کہ یہ بال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور ا س کو حاصل کرنے کے لیے تلاوت قرآن پاک کی بھی ضرورت نہیں بلکہ صرف اس پاک کتاب کے صفحات کو پرتنا ہے اور ہم جیسے غلیظ لوگوں کو وہ بال مل جائے گا اور ہمارا علاج ہو جائے گا ۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےلعاب مبارک میں بھی شفا ہے جو شیر خدا حضرت علی علیہ السلام کی آنکھوں کی بیماری کے علاج کا سبب بنا تھا۔ مگر سوچیے وہ پاک لعاب ان پاک آنکھوں کے لیے تھا ۔ کبھی بھی اس پاک ہستی کی جسمانی چیزوں کو اپنے جسم کے ساتھ مت جوڑیے ۔ اک بار اپنے ہاتھ اٹھاکر دیکھیں اور تصور کریں کہ آپ کے ہاتھوں میں موئے مبارک ہے ۔ اک نظر موئے مبارک پر ڈالیں اور اک نظر اپنے ہاتھوں پر اور سوچیے کہ کیا آپ کے ہاتھ اس قابل ہیں

میں غلیظ اور وہ پاک ذات۔

۔ اپنے جسم کی  بات کو چھوڑ کر یہ سوچیں کہ کیا آپ کے دل کے اندر چلنے والے خیالات اتنے پاکیزہ ہیں کہ آپ کو موئے مبارک نصیب ہو جائے۔ جب حجام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حجامت کرتا تھا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی کہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کے درمیان بال حاصل کرنے کے لیے جنگ ہوجائے گی وہ صحابہ کرام جن کا اٹھنا بیٹھنا پاکیزہ تھا ان کو موئے مبارک لینے کے لیے اتنا کچھ کرنا لڑتا تھا اور اک طرف لوگ جنہیں بغیر عبادت وریاضت کے مفت میں گھر بیٹھے بال مل رہے ہیں۔ کبھی سوچا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ مبارک حاصل کرنے کے لیے کتنی محنت کرنا پڑتی تھی اور وہ اس پسینے کو بطور خوشبو استعمال کرتے تھے اور یہاں لوٹ سیل لگی ہے کہ قرآن کھول کر موئے مبارک لےلو۔ اسی طرح آپ کو میسج ملتے ہونگے کہ اٹھو اور چاند کی طرف دیکھو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر آرہی ہے۔ عجب لوٹ سیل ہے لوگوں نے زیارت کے لیے میلوں سفر کیے اور لوگو ں نے گردنیں کٹوا دیں اور ہم نیک پارس لوگ جنہیں بس بستر سے اٹھ کر چاند کی طرف دیکھنا ہے اور زیارت نصیب کو جائے گی۔ ارے نادان تم نے کب اپنی آنکھوں کو اس قابل سمجھ لیا۔ یہ آنکھیں جنہیں اٹھتے بیٹھتے فحاشی دکھائی دیتی ہو یہ آنکھیں کب اس قابل ہو گئیں۔ یہ ھاتھ کب اس قابل ہو گئے جنہیں غلاظت میں رکھے رکھا اور اب ان ہاتھوں کی اتنی جرات کہ اب یہ موئے مبارک کو چھوئیں گے۔ خدارا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیجئے اور ان وبائی امراض سے محفوظ رہیے مگر ان بالوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب نہ کیجئے ۔ 

بقول میاں محمد بخش۔
خاصاں دی گل عاماں اگے نہیں مناسب کرنی
میٹھی کھیر پکا محمد تے کتیاں اگے دھرنی۔

زرا نہیں بہت سوچیے۔
دعا گو سی ایچ اکمل راجپوت
میں غلیظ اور وہ پاک ذات۔