جت دہاڑے دھن وری ساہے لئے لکھا۔
ملک جے کنی سنیندا مونھ دکھا لے آ ۔
جند نمانی کڈ ھیے ہڈاں کوں کڑکا ۔
ساہےلکھے نہ چنئ جندو کوں سمجھا۔
ترجمہ۔

 جس دن عورت  مراد انسانی روح کی  سگائی ہوئی۔ اس کے بیاہ مراد رخصتی یا موت کا دن لکھا گیا۔ پھر جب یہ دن آ پہنچا تو ملکلموت جس کا ذکر کانوں سے سنتے آئے ہیں آتے ہی منہ دکھاتا ہے۔
اے انسان موت کا وقت مقرر ہے۔تمہارے جسم سے روح نکل کر ہی رہے گی۔

تشریح۔

 جس دن روح انسانی اور قالب کا باہمی ملاپ ہوا تھا اسی دن سے رخصتی کا دن لکھا گیا تھا یعنی اسی دن سے اس کے سانس لکھے گئے۔ اس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی اور جب اس کی مدت پوری ہوگی تو وقت معینہ آپہنچا تو ملک الموت اس کی روح قبض کرنے کو پہنچتا ہے۔ اس شعر میں قرآن پاک کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے کہ
 اللہ تعالی کسی نفس زی رو ح کو وقت معینہ آجانے پر مہلت نہیں دیتا
 جب اللہ تعالی کے حکم سے فرشتوں نے آدم کا بت بنایا تو اس بت  ڈھانچہ خدا نے  روح پھونکی قالب میں روح داخل کی۔ روح کو انسانی جسم سے ایک مدت کے بعد وقت مقررہ پر جدا ہونے کا اقرار کرلیا گیا اور جب مقررہ وقت آ پہنچا تو موت کا فرشتہ جسم سے روح نکال کر لے جاتا ہے۔ اور معینہ وقت کبھی بھی ٹل نہیں سکتا۔ جب ملک الموت روح قبض کرنے کے لیے آتا ہے تو جسم کی ہڈیوں کو توڑ کر روح نکال لے جاتا ہے۔ اے انسان تو اپنی روح کو سمجھا کہ جب زندگی کے دن پورے ہو جاتے ہیں تو پھر تمہارا کوئی اثر نہیں چلتا اور اسے واپس جانا ہی ہوتا ہے۔
تشریح