شادی طلاق  اور وجھلکہ

بلاشبہ وجھلکہ میں علم و شعور کی کمی نے معاشرتی مسائل کو پروان چڑھایا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو وٹہ سٹہ نے ان خاندانوں کو جکڑ رکھا ہے۔ارے بھائی بیٹی دو گے تو بدلے میں بیٹی لو گے۔جی ہاں کچھ اسی طرح ہوتا ہے۔ چلیں مان لیں کہ وٹہ سٹہ کو بری چیز نہیں ہے۔مگر یہاں بسنے والے خاندان ایک اور معاشرتی بیماری میں مبتلا ہیں۔بچے جوان ہوئے ہی ہیں تو شادی کر دی جاتی ہے یعنی بیٹی لی بھی جاتی ہے اور دی بھی۔بڑی دھوم دھام سے ایک دوسرے کی طرف براتیں آتی اور جاتی ہیں مگر اسی وقت سب لوگ چند دنوں بعد ہونے والے ہولناک واقع سے لاعلم ہوتے ہیں۔ایسا واقعہ جو اس ساری محنت پہ پانی پھیرنے والا ہے۔رنگ برنگے کپڑے،دور دور سے آئے مہمان ، مختلف کھانے، گاڑیوں کے کرائے۔دولہا کی گاڑی کی سجاوٹ،ڈھول والے کا خرچہ یہ تمام خرچے اور محنت چند دنوں بعد ضائع ہونے والی ہے۔جی ہاں یہ شادی چند دنوں کےلیے ہی تو ہوئی تھی۔مہمان اپنے اپنے گھروں کو واپس پہنچتے ہی ہیں کہ ساتھ ہی خبر آ پہنچتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔طلاق۔۔۔۔۔ہو گئی ہے۔
جب ایک گھر کی بیٹی واپس آتی ہے تو دوسرے گھر کی بیٹی کو بھی ساتھ ہی نکال دیا جاتا ہے۔علم وشعور کا ان لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔گاؤں کی عورتیں اور مرد آئے دن ہمارے گھر آتے رہتے ہیں۔ استاد جی یہ مسئلہ ہمارے درمیان حل کروا دیں۔استاد جی طلاق دی تھی رجوع کا کیا طریقہ ہے۔اس طرح کے درجن سوال مجھے سننے میں ملتے رہتے ہیں۔اس سوچ میں اکثر رہتا ہوں کہ ایسا کیا کیا جائے کہ ان کو ازدواجی زندگی کی اہمیت اور قدر کا پتہ چل سکے۔با خدا ان کو درس قرآن ہر ہفتے ملتا رہتا ہے ۔گھروں کے مسئلے مسائل اور ان کا حل بھی بتایا جاتا ہے مگر ایسا کیا کیا جائے کہ شادی طلاق کو مذاق سے جدا کرکے کامیاب گھرانے تشکیل دیئے جا سکیں۔وجھلکہ میں میرے گھر سے چند فرلانگ دور ایک ایسا گھرانہ بھی ہے جس میں شوہر غصہ میں آکے درجنوں دفعہ طلاق دے چکا ہے مگر اسی شام اکٹھے نظر آتے ہیں

۔ارد گرد کے گھروں کو گندی ترین گالیاں ایسے سننے کو ملتی ہیں جیسے ناشتہ ہو۔با خدا نہ عورت کو شرم آتی ہے نہ مرد کو دونوں مل کہ گالیوں کا مقابلہ کرتے اور طلاق لیتے اور دیتے رہتے ہیں۔صلح صفائی کی ہزار کوششیں ناکام ہوچکی ہیں اور ساتھ ہی یہ کوشش بھی ناکام ہوچکی ہے کہ شاید ان دونوں میں طلاق کروا دی جائے اور الگ الگ کر دیا جائے مگر افسوس کہ ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیں۔انداز یہ لگائیں کہ ان لڑائیوں سے آنے والی نسل کیا سیکھتی ہوگی۔جب وہ بالغ ہوں گے تو کیا وہ میاں بیوی کے رشتے کی اہمیت سے واقف ہوں گے۔کیا ان کی تربیت بیوی کو گالیاں تھپڑ اور طلاق جیسی نا سور بیماریوں تک محدود نہیں کرےگی۔کیا معملات کو قوت برداشت اور صبر سے حل کرنے کی صلاحیت ہوگی ان بچوں میں۔ساتھ ہی سوچتا یہ تو ایک مسئلہ ہے ۔۔تعلیم۔۔۔خدمت خلق کی کمی۔۔۔ذہنی امراض۔۔۔ایسے درجنوں مسائل اس قوم کو سوائے ایک بگڑے ہوئے معاشرہ کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتے۔
خود تو جہالت میں زندگی گزار چکے ہو مگر خدا کے واسطے اپنے بچوں پر رحم کرو۔
دعا گو سی ایچ اکمل راجپوت
میرا گاؤں۔ Story