در درویشی گا کھڑی چلاں دنیا بھت۔
بنھ اٹھائی پوٹلی کیتھے ونجاں گھت۔
تشریح۔

  بابا فرید اپنے آپ کو متوجہ کرکے فرماتے ہیں درویشی یعنی راہ فقر بڑی کٹھن منزل ہے میں اس کے نشیب و فراز دیکھ چکا ہوں تجربہ کرکے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ درویشی کا راستہ بڑا مشکل اور مصیبتوں سے بھرا ہوا ہے بہتر ہے کہ اب میں اس راستہ کو چھوڑ کر دنیا کا راستہ اختیار کر لوں مگر میں جو فقیری کی گٹھڑی اٹھائے پھرتا ہوں اسے کہاں پہ پھینکوں۔
در درویشی گا کھڑی چلاں دنیا بھت۔

 کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ آپ کے کھیت کے قریب سے گزر رہے تھے تربوز کا خول پڑا ہوا تھا آپ اسے اٹھا کر خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا نظارہ کرنے لگے کہ اس میں آب رنگ و سرخرخی صانع  حقیقی نے کیسی بھری ہے۔  آپ اس خول کو دیکھ رہے تھے کہ کھیت کا مالک آپ کے پاس آیا اور اندھا دھند آپ کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا اور کہا میرے کھیت سے روزانہ تربوز چوری ہو جاتے تھے آج چور پکڑا گیا تھا کھو پڑے یہاں پھینک جاتا تھا حضرت بابا صاحب نے فرمایا کہ تربوز نہ میں نے کھایا نہ چرایا۔ مگر زمیندار نے  مارپیٹ کے علاوہ سخت زبانیں بھی کی۔ اور کہاں چور تم ہی ہو جو روز میرے کھیت سے تربوز چورا کر کھاتے تھے یہ سن کر حضرت بابا فرید صاحب نے خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں آبدیدہ ہو کر عرض کی الہی یہ حادثہ تربوز کے خالی خول کو دیکھنے سے ہوئی ہے

در درویشی گا کھڑی چلاں دنیا بھت۔

 اگر چوری کرتا تو کیا ہوتا اس دنیا میں ذلت  میں کس قدر ندامت ہوتی ہے  اور کس قدر سنگین سزا ملتی ہے۔ اتنی مدت تک راہ فکر میں محنتیں اور مصیبتیں برداشت کی اتنی ریاضتیں کیں ۔اب اس فقر کی گٹھڑی کو چھوڑ کر کہاں جاؤں  یعنی تیرا در چھوڑ کر اور کونسا ٹھکانہ ہے۔
 تھوڑی دیر کے بعد جب زمیندار کو بابا فرید صاحب کی صداقت اور تقدس کا حال معلوم ہوا تو وہ معذرت خواہی کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر گڑگڑایا۔
 اور کہا میں سخت نادم ہوں میرا قصور معاف فرمادیجئے بابا فرید نے فرمایا جا تجھے معاف کیا کہا جاتا ہے کہ زمین دار کی نسل میں ایک شخص ضرور کوڑھی ہوتا ہے یعنی جرامی ہوتا ہے۔

در درویشی گا کھڑی چلاں دنیا بھت۔