جب روس نے افغانستان کے بعد پاکستان پہ حملہ کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا۔۔مزید پڑھیں 

طاقت کے نشے میں مست سویت یونین جو کہ ہفتے کے اندر اندر پاکستان کے اندر 
رسائی کا ناپاک عزم رکھتےتھے۔ یہ سن 1979 کی بات ہے جب روس اپنی پوری طاقت کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوا اور اپنے پلان کے ساتھ کچھ ہی دنوں میں پورے افغانستان کی کمان سنبھال لی۔
 اب اس کی نظریں وطن عزیز پاکستان پر تھیں لیکن طاقت کے نشے میں مست ان حواریوں کو شاید اس بات کا علم نہ تھا کہ جس قوم کو انہوں نے پکارا ہے ان کے پاس ایمان کی ایسی طاقت ہے جو سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گی۔ اور ان کو ناکام کر دے گی اور ان کو ایسی شکست ہوگی کہ ان کی نسلیں یاد رکھیں گی۔


 یہ اس وقت کی بات ہے جب پاکستان کا مقابلہ اپنے سے کئی ہزار گنا بڑے ملک سے تھا اور دنیا خاموش تماشائی دیکھ رہی تھی کہ روس پاکستان کو مسل  دے گا۔ روس نے پاکستان کو بھڑکانے کے لئے سرحد کی کئی بار خلاف ورزی کی تاکہ وہ جان سکے کہ پاکستان کی فوج کا کیا رد عمل آتا ہے۔ اس وقت کے آئی ایس آئی جنرل محمد حمید گل کے لیے انتہائی آزمائش کا وقت تھا کیونکہ دشمن بالکل سر پر آن پہنچا تھا۔ اور پاکستان ایسی حالت میں تھا کہ وہ جنگ نہیں کر سکتا تھا ہمارے گمنام ہیروز نے روس کی فوج کا افغانستان کی سرزمین پر بیڑہ غرق کردیا۔ اور اس کے چشم دید گواہ روسی فوجی خود ہیں۔ بہت ہی کم لوگ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جاوید کے بارے میں جانتے ہیں جنہوں نے افغانستان میں نہ صرف اس جنگ میں حصہ لیا بلکہ روس کو ایسی شکست دی کے کہ روس خود ٹکڑےٹکڑےہوگیا
جب روس نے افغانستان کے بعد پاکستان پہ حملہ کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا۔۔مزید پڑھیں
۔
 یہاں ہم آپ سے ایک ایسے روسی فوجی جرنل اناتولی کا واقعہ شیر کرتے ہیں کہ کس طرح وہ آئی ایس آئی کے خوف سے بھاگ کر فرار ہوا جس کو روسی فوج کا طاقتور جرنیل تصور کیا جاتا تھا۔ روس اس خواہش میں تھا کہ وہ چند دنوں میں پاکستان پر قبضہ کر لے گا لیکن جنرل جاوید ناصر نے روسی فوج کو اس قدر بے رحمی سے افغانستان میں پھنسایا کہ  چودہ سال تک روس افغانستان میں پھنس کر رہ گیا۔ اور ان کے ہزاروں فوجی مارے گئے اور اسی جنگ کے نتیجے میں روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔

 جب روس نے افغانستان کے بعد پاکستان پہ حملہ کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا۔۔مزید پڑھیں

 روس کے ایک جنرل آناتولی جوکہ طاقتور اور معتبر جنرل مانے جاتے تھے ان کو پاکستانیوں سے سخت نفرت تھی۔ اور وہ اگلے مورچوں پر اپنے سپاہیوں کے ساتھ موجود تھے اسی دوران خونریز جنگ شروع ہوگئی اور دونوں طرف لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔ کیونکہ گرمی بہت زیادہ تھی اس لیے لاشیں خراب ہونا شروع ہوگئی اور اس نے اس وقت اس نے بیان دیا اور کہا کہ ہمیں پتا ہے کہ ہماری جنگ افغانستان  سے نہیں بلکہ ہماری جنگ آئی ایس آئی اور پاک فوج سے ہے۔ گرمی کی شدت کیوجہ سے لاشیں خراب ہو رہی تھی اور پھر جنگ بندی کی گئی۔ جب جنگ بندی کی گئی تو روسی جرنیل اناتولی اپنے فوجیوں کے ساتھ لاشیں اکٹھی کرنے کے لئے میدان جنگ میں گیا اس نے وہاں ایک عجیب و غریب منظر دیکھا اور پریشان ہو کر رہ گیا۔ 

جب اس نے دیکھا کہ مجاہدین کی لاشوں سے خوشبو آ رہی ہے مگر روسی فوجیوں کی لاشوں سے بہت ہی زیادہ بدبو آ رہی ہے۔ جرنیل اناتولی وہاں سے بھاگا اور  ماسکو میں چلا گیا۔ ماسکو کے بعد وہاں سے غائب ہوگیا اور روسی انٹیلی جنس ایجنسیاں سے کئی عرصہ تک تلاش کرتیں رہی مگر وہ نہ مل سکا۔ پھر کچھ عرصہ بعد آذربائیجان کی ایک مسجد کا امام فوت ہو جاتا ہے 

لوگ بہت زیادہ پریشان ہوتے ہیں کہ ان کے لواحقین کے بارے میں کیسے پتہ چلے انکےلواحقین نہیں ملتے پھر یہ معاملہ پولیس تک جا پہنچتا ہے اور پھر جا کے پتہ چلتا ہے یہ کوئی اور نہیں بلکہ جنرل اناتولی ہے۔ جو افغانستان میں جنگ کے بعد بھاگا اور بھاگ کر جاکے اسلام قبول کرلیا اور باقی کی زندگی گمنامی میں گزار دی۔ ہمارے گمنام ہیروز نے پاکستان کی خاطر بہت ساری قربانیاں دی ہیں اگرچہ وہ آج بھی ہم میں موجود نہیں ہیں مگر ان کی دی ہوئی قربانی اور ان کی خدمت کی معترف آج بھی پاکستان کا چپہ چپہ ہے اور ان کی بہادری اور دلیری کے خود روسی فوجی گواہ ہیں۔
جب روس نے افغانستان کے بعد پاکستان پہ حملہ کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا۔۔مزید پڑھیں