(Neurological diseases) اعصابی بیماریاں

کہاں ہیں؟ کیوں ہیں؟ کتنے ہیں؟

.
 حکیموں اور ڈاکٹروں کے ہاں اسی نوے فیصد مریض اعصاب کی آتے ہیں. اور ان کا اس بیماری سے واسطہ پڑتا ہے۔ مگر ایسے طبیب بہت کم ہے جو اعصاب کی حقیقت اور کارکردگی سے کماحقہ واقف ہیں۔ کماحقہ کا لفظ تو جلدی میں نکل گیا ورنہ کماحقہ واقفیت کا دعوی تو کسی بڑے سے بڑے ماہر کو بھی نہیں زیبا نہیں ہے۔ اس کا دعوی تو خالق کائنات کو زیب دیتا ہے تاہم اس ادنی سی واقفیت دلانے کے لئے یہ ناچیز کوشش کی جارہی ہے۔ اعصاب کیا ہیں؟

 کہاں ہیں؟ کیوں ہیں؟ کتنے ہیں؟

 اگر ان تمام سوالات کی تفصیل بیان کی جائے تو بہت زیادہ لمبی پوسٹ ہوجائے گی۔ مگر کیونکہ ہمارا مقصد آپ کو اعصاب سے متعارف کروانا اور ان کی بیماریاں اور ان سے بچنے کا تدارک بتانا ہے۔ بدن انسانی میں دماغ کے حصے تار گھر ہیں۔ جہاں سے بہت ساری تاریں نکل کر بدن کے ہر حصے میں پہنچتی ہیں۔ جو کہ ہر سیکنڈ میں پیغام لاتی ہیں اور لے جاتی ہیں۔ یہی تارے اعصاب کہلاتی ہیں۔ دماغ کیا ہے؟ اس کے کتنے حصے ہیں؟ اس میں بدن انسانی کی سلطنت کو چلانے کے لیے کتنے محکمے ہیں؟ ان کے بیان کرنے کے لیے پوسٹ بہت زیادہ لمبی ہو جائے گی یہاں  صرف اعصاب کے متعلق چند حیران کر دینے والی باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس تار گھر کے خراب ہو جانے سے کس طرح انسانی جسم کا نظام خراب ہو جاتا ہے۔

Neurological diseases

دماغ کے اندر سے یہ تاریں اس قدر زیادہ تعداد میں نکلتی ہیں اور جسم کے ہر حصہ میں پھیلی ہوئی ہیں۔ آپ کے جسم کے کسی حصہ پر بھی سوئی کی نوک رکھ دی جائے  وہاں ضرور کوئی نہ کوئی اعصابی تار موجود ہوگی۔ بعض اعصاب اس قدر باریک ہوتے ہیں کہ خوردبین کے سوا کسی طرح دکھائی ہی نہیں دیتے۔
 آپ یہ سن کر ضرور حیران ہوں گے کہ جس طرح بجلی کی تاروں پر ربڑ وغیرہ کے خلاف اس لیے چڑھائے جاتے ہیں کہ دو تاریں ملکر نظامِ برقی کو درہم برہم نہ کر دیں۔ اس طرح اللہ تعالی نے اعصاب کے ہر باریک سے باریک تار پر بھی غلاف چڑھا کر اسے محفوظ کر دیا ہے۔ تاکہ ان علاقوں میں خبر رسانی میں گڑبڑ پیدا ہونے نہ پائے۔ اعصابی نظام میں کچھ عصب مخصوص کاموں پر مامور ہیں۔ چنانچہ خوشبو اور بدبو کا سونگنا، مختلف اقسام کے دلفریب رنگوں کا دیکھنا، بریک اور کراہت دلنواز اور خراش آوازوں کا سننا، سرد اور گرم، نرم اور سخت اشیاء کو چھو کر معلوم کرنا، خوش ذائقہ غذا سے لذت حاصل کرنا، اور بدذائقہ کڑوی کسیلی اشیاء سے نفرت کرنا، یہ سب کام انہی عصاب کے نتیجے میں ہوتا ہے۔

 اعصاب کی اقسام کارکردگی کے لحاظ سے دوقسمیں ہیں۔

 اعصاب حس اور اعصاب حرکت۔ اعصاب حس پیغام لے جانے والے تاریں ہیں جوکہ بدن کے ہر حصہ میں موجود ہیں۔ اس لئے ہر مقام سے اچھی اور بری خبریں  پہنچاتی رہتی ہیں۔ مثلاً آپ کا پاوں اندھیرے میں سانپ کے اوپر آ جاتا ہے تو پاؤں میں موجود اعصاب دماغ کو مطلع کر دیتا ہے کہ خبردار ہو جاؤ۔ پاؤں کے نیچے تمہارا دشمن سانپ آگیا ہے۔ گرم زمین یا آگ پر پاؤں رکھتے ہیں پاؤں کے اعصاب دماغ کو متنبہ کر دیتے ہیں۔ کسی کانٹے پر پاؤں پڑتا ہے تو تکلیف کا احساس بھی یہی پٹھے دلاتے ہیں۔
  اعصاب حرکت حقیقت میں حکم چلانے والی تاریں ہیں ان میں سے ایک مثال پیش کرتا ہوں آپ آنکھیں کھول کر تیزی سے چلے جارہے ہیں ایک مچھر اچانک آنکھ میں پڑھنا ہی چاہتا ہے کہ آنکھ کا اعصاب فوراً دماغ کو اطلاع دیتا ہے کہ خبردار مچھر آنکھ کے ڈھیلے پر حملہ آور ہونا ہی چاہتا ہے دماغ اعصاب کو حکم دیا کہ فوراً آنکھ  کو بند کر دو۔
بدن انسانی میں جتنا مصروف یہ محکمہ ہے اور کوئی نہیں ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے نیند کو پیدا کیا ہے تاکہ چند گھنٹے یہ محکمہ بھی دم لے لے۔
Neurological diseases

جدید مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے ذریعے ہمارے ہاں جو طرز معاشرت پنپ رہا ہے اس نے جہاں ہماری ذہنی زندگی اور اخلاقی نظام میں انتشار برپا کیا ہے وہیں ہماری سوسائٹی کے بیشتر افراد کو طرح طرح کے جسمانی اور نفسیاتی عارضوں میں بھی مبتلا کیا ہے۔

 ضعف اعصاب کا مرض بھی ایسے ہی غلط خطوط پر چلنے والے معاشرہ کا ثمر
 تلخ ہے۔ اور بلامبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں شہری زندگی بسر کرنے والے حضرات میں سے تقریبا ساٹھ ستر فیصد لوگ ضعف اعصاب کے مرض میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اس پوسٹ کے اندر صرف اور صرف اعصاب کا تعارف کرانا مطلوب تھا اگلی پوسٹوں میں اعصاب کے امراض بھی بیان کیے جائیں گے اور ان کے علاج بھی۔