جگر کی اہمیت اور اس کی حفاظت

 ہے روح طبعی کا معدن ہے۔ جسم میں اس کا مقام دائیں طرف پسلیوں کے نیچے اور معدہ کے اوپر ہے۔ انسان کی صحت اور بقا میں جگر کو بہت بڑا دخل ہے۔ خون اسی عضو میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں جگر انسانی بدن کی ایک قدرتی خون ساز مشین ہے۔ جب یہ مشین بگڑ جائے تو  جسم انسانی کی کھیتی سوکھ کر ویران ہونے لگتی ہے۔ قدیم و جدید  حکماء برسوں کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں اگر جگر میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو انسان کی صحت و تندرستی کا گلشن اجڑ کر رہ جاتا ہے۔
A prescription for pneumonia that will cure the patient immediately.

 امراض جگر

امراض جگر میں یرکان یعنی ہیپاٹائٹس ، ضعف جگر ،ورم جگر اور درد جگر شامل ہیں۔
 تلی بائیں جانب کی پسلیوں کے نیچے واقع ہے یہ سودا کو جگر سے جذب کرتی ہے اور معدہ میں اس ٹپکا دیتی ہے۔ اس عمل سے ہمیں بھوک محسوس ہوتی ہے۔
 حکیم کہتے ہیں کہ تلی جتنی چھوٹی ہوگی جسم اتنا ہی تندرست اور توانا ہوگا۔ اور تلی جتنی بڑی ہوگی جسم اتنا ہی لاغر اور کمزور ہوگا۔ گویا اس کا بڑنا صحت کے گھٹنے کے مترادف ہے۔

 شفائی

 طبیب روحانی اور جسمانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سناء کو موت کےعلاوہ ہر مرض کے لیے مفید قرار دیا ہے ۔ اس اصول کے تحت مندرجہ ذیل نسخہ تجویز کرتے ہیں۔ اور تجربہ بالحقیقت ہر مرض کی ابتدا میں مفید پایا۔ یہ نسخہ صدیوں سے بہت زیادہ کارآمد ہے۔ اس وقت یہ نسخہ باوجہ ارزاں ترین ہونے کے ہم بار بار بنا کر مریضوں کو دیتے رہے ہیں اور مفید پاتے رہے ہیں۔ 

نسخہ

برگ سنا مکی پانچ تولہ، سونٹھ بے ریشا اڑھائی تولہ، نمک طعام لاہوری اڑھائی تولہ، سفوف بنا کر ڈبوں میں بند کر کے رکھیں۔ اور  بوقت ضرورت ہر مرض کی ابتدا میں ایک ماشہ سے تین ماشہ تک تازہ پانی سے دیں۔ اور ایک رتی سے دو رتی تک ہاضم طعام مخرج ریاح کے طور پر استعمال کروائیں۔
 جگر کی خرابی کے لئے بھی یہ اکسیر صفات کا حامل ہے

 جگر اور تلی کی بیماریوں کے لئے مفید اور مضر غذائیں۔

 مفید غذائیں۔

 انجیر، ناشپاتی، پیٹھا، شلغم اور مولی اور اونٹنی کا دودھ، رواں اور مسور کی دال۔
 مضر غذائیں
 گھی اور تمام مرغن اشیاء ، تلی ہوئی تمام اشیاء جیسے سموسے اور پکوڑے وغیرہ شامل ہیں۔ مزید معدہ اور جگر کے مریضوں کو بازاری خوراک سے پرہیز ضروری ہے۔

A prescription for pneumonia that will cure the patient immediately.